بہاول پور (نیوز ڈیسک)ریاست بہاولپور کے درباری گلوکاروں کے چشم و چراغ اور گوالیار گھرانے کے عظیم کلاسیکی گلوکار استاد مبارک علی خان بہاولپوری کی دوسری برسی گزشتہ روز عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ وہ 23 اکتوبر 2024ء کو 84 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔
استاد مبارک علی خان نے حیدرآباد سندھ میں گوالیار و کوتوالی گھرانے کے استاد امید علی خان سے خیال گائیکی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ان کی خیال گائیکی اور سوز و گداز سے بھرپور سرائیکی کافیاں ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتی رہیں، جبکہ بہاولپور میں ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
برسی کے موقع پر ان کے اہل خانہ نوازش علی خان، نادر علی خان، مظاہر علی، ابوذر علی، علی نقی اور مستاجر علی سمیت شاگردوں اور مداحوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ استاد مبارک علی خان کی کلاسیکی گائیکی اور سرائیکی موسیقی کے لیے خدمات کو ان کے شاگرد اور مداح آج بھی قدر و احترام سے یاد کرتے ہیں۔