بہاول پور(نیوز ڈیسک)اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب جنوبی کے ناظم حذیفہ عثمان نے طلبہ کے حقوق، معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے 9 نومبر سے 24 نومبر تک رحیم یار خان سے لاہور مال روڈ تک روڈ کارواں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی تعلیمی فیسوں، سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، طبقاتی نظام تعلیم اور طلبہ کو درپیش تحفظ کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
وہ ناظم بہاولپور اور ناظم بہاولپور ریجن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں انہوں نے روڈ کارواں کے اغراض و مقاصد اور طلبہ کے مطالبات سے آگاہ کیا۔
حذیفہ عثمان نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، تاہم بڑھتی ہوئی فیسیں، سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کے تحفظ کے مسائل تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونینز فوری بحال کی جائیں، تعلیمی فیسوں میں کمی کی جائے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا کم از کم چار فیصد تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کیا جائے۔
انہوں نے سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری روکنے اور وہاں تعلیمی سہولیات و معیار بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو ہراسگی اور تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے اور شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔
بہاولپور کے تعلیمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس ای کالج میں امتحانات اور نتائج کے انعقاد میں غیر معمولی تاخیر طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔ چار سالہ ڈگری پروگرام کا چھ سال میں مکمل ہونا تعلیمی نظام کے انتظامی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امتحانات اور نتائج کا نظام بروقت بنایا جائے تاکہ طلبہ مقررہ مدت میں اپنی ڈگریاں مکمل کر سکیں۔
حذیفہ عثمان نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ثقافتی سرگرمیوں کے نام پر منعقد ہونے والی رقص کی تقریب پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم، تربیت اور کردار سازی ہے، اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ نجی میڈیکل کالجز میں فیسوں کی وصولی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مقررہ قواعد کے مطابق یقینی بنائی جائے، جبکہ نجی جامعات کی فیسوں، تعلیمی معیار اور طلبہ کے حقوق کی نگرانی کے لیے مؤثر اور خودمختار ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ روڈ کارواں کا مقصد پنجاب بھر کے طلبہ کو درپیش مسائل اجاگر کرنا، عوامی شعور بیدار کرنا اور حکومت کو تعلیمی اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ کارواں 9 نومبر کو رحیم یار خان سے شروع ہو کر 24 نومبر کو لاہور مال روڈ پر اختتام پذیر ہوگا۔