چشتیاں (نیوز ڈیسک)سابق مشیرِ وزیرِاعظم پاکستان اور سجادہ نشین دربار کوٹ مٹھن شریف خواجہ محمد عامر فرید کوریجہ سائیں نے پاکپتن میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ناقص حکمت عملی، بدترین انتظامی ناکامی اور بہشتی دروازہ سے گزرنے والے زائرین پر مبینہ پولیس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
خواجہ عامر فرید کوریجہ سائیں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ پاکستان میں کسی بھی صوفی بزرگ کے دربار پر زائرین کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک قابلِ افسوس ہے۔ ان کے مطابق بابا فرید گنج شکرؒ کے مہمانوں پر مبینہ تشدد انسانیت اور مروجہ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہشتی دروازہ سے گزرنے والے زائرین پر پولیس اہلکاروں کا تشدد انتظامیہ کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ عرس کے موقع پر ناقص انتظامات کے باعث زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سڑکوں اور گلیوں میں غیر ضروری رکاوٹوں نے عوام اور زائرین کی نقل و حرکت کو بری طرح متاثر کیا۔
خواجہ عامر فرید کوریجہ سائیں نے کہا کہ صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ بھگدڑ اور افراتفری کے مناظر سامنے آئے جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر انتظامات کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ، خصوصاً ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے لاکھوں زائرین کے اجتماع کے باوجود مناسب انتظامات کو یقینی نہیں بنایا۔
خواجہ عامر فرید کوریجہ سائیں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے آئندہ عرس کے لیے مؤثر اور جامع انتظامی نظام تشکیل دینے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام کے مزارات پر آنے والے زائرین کو عزت، احترام اور سہولیات کی فراہمی ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور زائرین کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔