بہاولپور (نیوز ڈیسک) بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابی تنازع پر ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او) نے چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 18 اکتوبر 2026ء کو ہونے والے انتخابات، خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے 22 اکتوبر کو ہونے والی پولنگ اور 28 اکتوبر کو صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کے انتخابی عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر نئے انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ نئے انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر بہاولپور کو سونپ دی گئی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ، بہاولپور بنچ نے 29 اکتوبر 2026ء کو فریقین کی رضامندی سے چیمبر کے انتخابی تنازع کا معاملہ ریگولیٹر ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او) کو بھجواتے ہوئے سات روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں ڈی جی ٹی او نے دستیاب ریکارڈ، شکایات اور انتخابی عمل سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا اور فریقین کا مؤقف سننے کے بعد 5 نومبر 2026ء کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
21 اکتوبر کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا،دوبارہ گنتی سے چند گھنٹے قبل بیلٹ باکس توڑا گیا
فیصلے کے مطابق چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 18 اکتوبر کو منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج اور انتخابی عمل کے حوالے سے امیدواروں کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر 21 اکتوبر کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم دوبارہ گنتی سے چند گھنٹے قبل اسی روز علی الصبح تقریباً 4 بج کر 24 منٹ پر چیمبر کی عمارت میں ایک واقعہ پیش آیا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر سکیورٹی گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سینئر نائب صدر کے دفتر کو نقصان پہنچایا گیا، شفاف بیلٹ باکس توڑا گیا، سیل شدہ لفافوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی جبکہ سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر/این وی آر بھی غائب پایا گیا۔
کارپوریٹ کلاس کے استعمال شدہ 260 بیلٹ پیپرز دستیاب نہیں تھے۔ اس کلاس میں آخری کامیاب امیدوار ملک عثمان رشید نے 125 ووٹ حاصل کیے جبکہ چوہدری خالد جاوید اور محمد عابد نے 122، 122 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پانچ ووٹ مسترد ہوئے اور کامیابی کا فرق صرف تین ووٹ تھا۔
اسی طرح ایسوسی ایٹ کلاس کے ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر 1004 بیلٹ پیپرز کا حساب موجود تھا، جن میں سے 40 مسترد ہوئے اور 964 درست ووٹ شمار کیے گئے۔ فیصلے میں 30 بیلٹ پیپرز پر مقررہ حد سے زیادہ امیدواروں کو ووٹ دینے کی نشاندہی کی گئی، جہاں بعض بیلٹ پیپرز پر 17، 18 اور 19 امیدواروں کے حق میں نشانات لگائے گئے تھے۔ ڈی جی ٹی او کے مطابق اس صورتحال سے اتحاد گروپ کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر بہاولپور کو تین ہفتوں کے اندر ایگزیکٹو کمیٹی کے نئے انتخابات کرانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی
ڈی جی ٹی او نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ انتخابی ریکارڈ کی تحویل اور حفاظت کے حوالے سے ٹریڈ آرگنائزیشنز رولز 2013ء کے قاعدہ 19(14) کی پابندی نہیں کی گئی۔ فیصلے کے مطابق سیکرٹری جنرل سید عبیر حیدر نے انتخابی ریکارڈ سینئر نائب صدر کے دفتر منتقل کیا اور چابیاں الیکشن کمیشن کے حوالے کیں، جبکہ ویڈیو ریکارڈ میں دو لفافے دکھائی دینے کے باوجود ڈی جی ٹی او کے سامنے صرف ایک لفافہ پیش کیا گیا۔
انتخابی ریکارڈ کی حفاظت، بیلٹ پیپرز اور دیگر شواہد سے متعلق سامنے آنے والی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 18 اکتوبر کے کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس کے انتخابات کالعدم قرار دیے گئے۔ اسی بنیاد پر خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے 22 اکتوبر کو ہونے والی پولنگ اور 28 اکتوبر کو صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کے انتخابات بھی منسوخ کر دیے گئے۔
ڈی جی ٹی او نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور کو تین ہفتوں کے اندر ایگزیکٹو کمیٹی کے نئے انتخابات منعقد کرانے کی ہدایت کی ہے۔ نئے انتخابی عمل کے لیے 18 اکتوبر سے قبل منظور شدہ حتمی ووٹر لسٹ اور 13 اکتوبر کو جاری کردہ امیدواروں کی فہرست کو بنیاد بنایا جائے گا۔ نئے واٹر مارک والے بیلٹ پیپرز کی تیاری، سکیورٹی انتظامات، سی سی ٹی وی کیمروں اور انتخابی عمل کی محفوظ ویڈیو ریکارڈنگ کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے نئے نتائج کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں اور عہدیداران کے انتخابات کرائے جائیں گے۔
ڈی جی ٹی او نے سیکرٹری جنرل سید عبیر حیدر کو ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ انہیں فوری طور پر انتخابات سے متعلق انتظامی اور مالی امور کی ذمہ داریوں سے بھی الگ کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او بہاولپور کو بیلٹ پیپرز کی برآمدگی اور تفتیشی کارروائی مکمل کرکے چالان پیش کرنے کی ہدایت
فیصلے میں ڈی پی او بہاولپور کو مقدمہ نمبر 1317/26 کی تفتیش جلد مکمل کرنے، انتخابی ریکارڈ کی منتقلی میں ملوث افراد سے پوچھ گچھ، غائب ڈی وی آر اور بیلٹ پیپرز کی برآمدگی اور تفتیشی کارروائی مکمل کرکے چالان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ باقی ماندہ انتخابی مواد ڈی جی ٹی او کی تحویل میں رکھنے اور اجازت کے بعد اس کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔