چشتیاں (نیوز ڈیسک) نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے نواسے حضرت امام حسینؓ اور دیگر شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔
لائسنس دار اختر حسین کی رہائش گاہ سے تعزیہ و علم کا جلوس، لکڑ منڈی کی نواحی گلی میں حکیم غضنفر علی کی رہائش گاہ سے شبیہ ذوالجناح اور ریل بازار میں شیخ کاظم علی کی رہائش گاہ سے شبیہ ذوالجناح کے جلوس برآمد ہوئے، جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے چوک بخاری پہنچے، جہاں عزاداروں نے نمازِ ظہرین ادا کی۔
بعد ازاں مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کا تذکرہ کیا گیا اور ان کی لازوال جدوجہد، صبر و استقامت اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ذاکرین نے واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جبکہ عزاداروں نے غمِ حسینؓ میں نوحہ خوانی، ماتم داری اور زنجیر زنی کی۔
زنجیر زنی کے دوران 60 عزادار زخمی ہوئے، جنہیں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال چشتیاں کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے فوری طبی امداد فراہم کی۔ عزاداروں نے نوحہ خوانی اور ماتم داری کے ذریعے حضرت امام حسینؓ، اہلِ بیتِ اطہارؓ اور دیگر شہدائے کربلا کو پرسہ پیش کیا اور ان کی بے مثال قربانیوں کو عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا۔
یومِ عاشور کا ماتمی جلوس بازار، قاضی والا روڈ، ہائی وے روڈ اور سینما روڈ سے ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ درِ بتول پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
یومِ عاشور کے موقع پر سکیورٹی اور انتظامی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے کمشنر بہاولپور ڈویژن عرفان علی کاٹھیا، آر پی او بہاولپور غازی صلاح الدین، ڈپٹی کمشنر بہاولنگر ذوالفقار احمد اور ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران چشتیاں پہنچے، جہاں انہوں نے جلوس کے ہمراہ سکیورٹی، صفائی، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے یومِ عاشور کے جلوسوں اور مجالس کے پرامن انعقاد کے لیے جامع سکیورٹی پلان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔