بہاولپور (نیوز ڈیسک): قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم لیگل اویئرنیس واچ پاکستان (LAW) کے زیر اہتمام جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (JJSA) 2018 پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں نابالغ ملزمان کے لیے نظامِ انصاف سے متعلق قوانین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ورکشاپ میں سابق سیشن جج محمد سعید اللہ مغل، ممبر پنجاب بار کونسل افضل دھرالہ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے جنرل سیکرٹری منیب الرحمان، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ بہاولپور عزیر احمد، سید منور بخاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، انسپکٹر سجاد سندھو، انسپکٹر اکبر جوئیہ، مسلم یاسمین ایڈووکیٹ سمیت سینئر وکلاء، خواتین وکلاء، پولیس، بورسٹل جیل بہاولپور، چائلڈ پروٹیکشن بیورو بہاولپور کے افسران، میڈیا نمائندگان اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے ڈائریکٹر سرمد علی ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے کہا کہ جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے مطابق 18 سال سے کم عمر ہر فرد قانون کی نظر میں بچہ تصور کیا جاتا ہے۔ نابالغ ملزم کو دوران حراست جسمانی ریمانڈ پر پولیس اسٹیشن میں نہیں رکھا جا سکتا، نہ ہی اسے کسی بھی وقت ہتھکڑی یا بیڑیاں لگائی جا سکتی ہیں، جبکہ دوران حراست یا سزا اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا بھی قانوناً ممنوع ہے۔ اسی طرح کسی نابالغ ملزم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
مقررین نے بتایا کہ دس سال سے کم سزا والے جرم میں ملوث 16 سال سے کم عمر ملزم کو ضمانت کا قانونی حق حاصل ہے، جبکہ گرفتاری کے بعد پروبیشن افسر کی جانب سے نابالغ ملزم کے ورثاء کو اطلاع دینا قانونی تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیر حراست نابالغ ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر نابالغوں کی خصوصی عدالت میں پیش کرنا لازم ہے، جبکہ دوران پولیس ریمانڈ یا سزا کم عمر ملزم مفت قانونی معاونت اور علاج معالجے کا بھی حق دار ہوتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ چھ ماہ تک جوڈیشل حوالات میں موجود نابالغ ملزم قانونی طور پر ضمانت کا حق رکھتا ہے۔
مقررین نے زور دیا کہ قانون سے متصادم بچوں کو پولیس تھانوں یا عام جیلوں میں رکھنے کے بجائے تفتیش کے دوران آبزرویشن ہومز اور بعد ازاں بحالی مراکز میں رکھا جانا چاہیے، جیسا کہ قانون میں واضح کیا گیا ہے۔ ورکشاپ میں نشاندہی کی گئی کہ ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت قواعد تاحال نافذ نہیں کیے جا سکے، جبکہ دفعہ 10 کے تحت جووینائل جسٹس کمیٹیاں صوبائی سطح پر غیر فعال ہیں، جس کے باعث مقدمات میں تاخیر اور عدالتوں پر بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ ایکٹ کے تقاضوں کے باوجود بچوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے فنڈز قائم نہیں کیے گئے اور نہ ہی حکام اور میڈیا کی جانب سے قانون سے متصادم بچوں کی شناخت خفیہ رکھنے کو یقینی بنایا جا سکا ہے۔ بریفنگ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بچوں کی عمر کے تعین کے لیے سائنسی طریقہ کار اپنایا جائے، پروبیشن افسران کی تربیت بہتر بنائی جائے اور پولیس، پراسیکیوشن و پروبیشن محکموں کے درمیان مؤثر رابطے اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔
شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ قانون سے متصادم بچوں کو بدنام یا سخت مجرم سمجھ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر ہر فرد قانون کی نظر میں بچہ تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ خصوصی اور محتاط قانونی رویہ اختیار کرنا لازم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نابالغ ملزمان کی گرفتاری کی صورت میں متعلقہ ادارے فوری طور پر پروبیشن افسر کو مطلع کریں تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں اور بچے کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
بعد ازاں ورکشاپ کے شرکاء کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا، جہاں گروپ ڈسکشن کے بعد انہوں نے اس حوالے سے اپنی تجاویز تحریری صورت میں پیش کیں۔