بہاولپور (نیوز ڈیسک) کمشنر عرفان علی کاٹھیا کی زیر صدارت ڈویژنل امن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مذہبی ایام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی انتظامات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری میاں محمد عثمان اویسی، ریجنل پولیس آفیسر غازی صلاح الدین، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ پولیس افسران، مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام، امن کمیٹی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ بہاولنگر اور رحیم یار خان کے ضلعی افسران ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلیں گے اور بہاولپور ڈویژن میں بھائی چارے، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ علماء کرام اور امن کمیٹی کے اراکین سے مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
آر پی او غازی صلاح الدین نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مذہبی ایام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات، حساس مقامات کی مؤثر نگرانی اور مربوط پولیسنگ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افواہیں اور انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری میاں محمد عثمان اویسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مذہبی ایام کے دوران امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
اجلاس میں مذہبی اجتماعات، جلوسوں اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو امن و امان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے اور تمام حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ انتظامیہ، پولیس، علماء کرام، امن کمیٹیوں اور عوام کے باہمی تعاون سے بہاولپور ڈویژن میں امن، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔