لودھراں (نیوز ڈیسک) پنجاب ٹیچرز یونین کے ضلعی صدر رانا محمد فاروق خان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اساتذہ اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ظالمانہ، غیرمنصفانہ اور سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے۔ سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ مرحوم ملازمین کے بچوں کے لیے روزگار کے دروازے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مطالبات کی منظوری کے لیے پریس کلب لودھراں کے باہر قائم بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے ملازمین کو 85 فیصد سے زائد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس دے چکی ہے، مگر پنجاب حکومت تاحال سرکاری ملازمین کو اس حق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی غیرمنصفانہ رویے کے خلاف پنجاب بھر میں پریس کلبوں اور پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی تحریک جاری ہے۔
رانا محمد فاروق خان نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور آئندہ مرحلے میں حکومت پنجاب کو بھرپور ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر حکومت نے ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے لیو انکیشمنٹ پر کٹوتیاں عائد کر کے سرکاری ملازمین کی زندگی بھر کی جمع پونجی متاثر کی ہے، جبکہ پنشن اور گریجویٹی سے متعلق فیصلوں نے بھی ملازمین میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ مزید برآں رول 17-A کے خاتمے سے مرحوم سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے ملازمت کے مواقع ختم ہو گئے ہیں، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔
اس موقع پر رانا محمد فاروق خان، محمد طاہر خان لنگاہ اور راؤ عبدالحکیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس فوری طور پر دیا جائے، لیو انکیشمنٹ اور پنشن سے متعلق فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور رول 17-A بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات منظور نہ کیے گئے تو پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین تاریخ ساز احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
بھوک ہڑتالی کیمپ میں خواتین و حضرات اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔