چشتیاں (نیوز ڈیسک) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چشتیاں کے نواحی علاقے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق خواتین کی امدادی رقوم میں مبینہ خردبرد اور غیرقانونی کٹوتیوں کے الزام میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا، جبکہ لاکھوں روپے کی نقد رقم، الیکٹرانک ڈیوائس، موبائل فون اور متعلقہ ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو مستحق خواتین کی امدادی رقوم میں مبینہ غیرقانونی کٹوتیوں کی متعدد شکایات موصول ہوئیں، جس پر انسپکٹر صبغت اللہ کی سربراہی میں خصوصی چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے چشتیاں کے نواحی چک نمبر 98 فتح میں واقع ایک دکان پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے انجم رشید کو حراست میں لے لیا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر بتایا کہ وہ اپنے حقیقی بھائی بہزاد رشید (فرنچائزر)، رانا عبدالرشید اور محمد کاشف (اکاؤنٹ ہولڈر) کے ساتھ مل کر الفا پے (Alpha Pay) ڈیوائس کے ذریعے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو ملنے والی امدادی رقوم میں سے فی خاتون ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک مبینہ طور پر غیرقانونی کٹوتی کرتے تھے۔
چھاپے کے دوران موجود متعدد خواتین نے بھی ایف آئی اے حکام کو بتایا کہ ان کی امدادی رقوم میں مبینہ طور پر زبردستی کٹوتی کی جاتی رہی۔ کارروائی کے دوران ایف آئی اے نے دکان سے الفا پے ڈیوائس، نوٹ 12 موبائل فون، رجسٹر، دیگر ریکارڈ اور 4 لاکھ 23 ہزار 850 روپے قبضے میں لے لیے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کے دیگر مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مقدمے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔