لیہ (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن "محفوظ زرعی پیداوار، معیاری خوراک اور زرعی برآمدات میں اضافہ” کے تحت محکمہ زراعت (پیسٹ وارننگ و زرعی ادویات کوالٹی کنٹرول)، محکمہ زراعت (توسیع) اور ساوی کے اشتراک سے کرور لعل عیسن، ضلع لیہ میں چاول کے کاشتکاروں کے لیے آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔
سیمینار میں چاول کے کاشتکاروں، زرعی ماہرین اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر چاول کی فصل میں افلاٹاکسنز کے تدارک، 13 ممنوعہ زرعی ادویات کے استعمال سے اجتناب، محفوظ طریقہ کاشت اور برآمدی معیار کے مطابق پیداوار بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔
ڈائریکٹر زراعت (پیسٹ وارننگ) عمران فراز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاول کی فصل پر 13 ممنوعہ زرعی ادویات کا استعمال ہرگز نہ کیا جائے کیونکہ ان کی باقیات برآمدی معیار کو متاثر کرنے کے ساتھ ملکی زرعی برآمدات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ صرف رجسٹرڈ اور محکمہ زراعت کی سفارش کردہ زرعی ادویات استعمال کریں تاکہ معیاری پیداوار حاصل ہو اور زرعی برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) کرور شہباز حسین نے متوازن کھادوں کے استعمال، غذائی اجزاء کی اہمیت، بروقت کھادوں کی فراہمی اور بہتر پیداوار کے حصول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سفارشات کے مطابق متوازن کھادوں کا استعمال فصل کی صحت، پیداوار اور چاول کے معیار کو بہتر بناتا ہے، جو برآمدی تقاضوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سیمینار میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ راؤ اسد آفتاب، ڈائریکٹر زرعی تربیتی ادارہ میاں یاسین، ڈپٹی ڈائریکٹر زرعی تربیتی ادارہ حبیب الرحمٰن، ڈپٹی ڈائریکٹر موافق تحقیقی مرکز محمد اکرم اور ڈپٹی ڈائریکٹر موافق تحقیقی مرکز ڈاکٹر شعیب کلیم نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے افلاٹاکسنز کی روک تھام، ممنوعہ زرعی ادویات سے اجتناب، محفوظ فصلی انتظام اور برآمدی معیار کے مطابق چاول کی پیداوار سے متعلق مفید سفارشات پیش کیں۔
سیمینار کے اختتام پر کاشتکاروں نے محکمہ زراعت اور ساوی کی سفارشات پر عملدرآمد اور ممنوعہ زرعی ادویات کے استعمال سے مکمل اجتناب کرنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ معیاری چاول کی پیداوار کے ذریعے زرعی برآمدات میں اضافہ اور ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔