بہاول پور (نیوز ڈیسک) بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سید ظفر شریف کی قیادت میں وفد نے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو سروسز بہاولپور محمد ایاز سے ملاقات کی۔ وفد میں چیمبر کے نائب صدر محمد اعظم قریشی، بہاولپور فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان، چیمبر کے سابق صدر چوہدری عبدالجبار، چوہدری وحید اختر، چوہدری تنویر اختر، حافظ اسامہ طارق اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن جاوید اقبال چوہدری شامل تھے۔
ملاقات میں ایف بی آر کی جانب سے فلور ملز کو جاری کیے گئے نوٹسز اور دیگر ٹیکس سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر چیمبر آف کامرس سید ظفر شریف نے کہا کہ ایف بی آر اور بزنس کمیونٹی کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے اور تاجر برادری ہمیشہ اپنے ذمے واجب الادا ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔
چیمبر کے سابق صدر چوہدری عبدالجبار نے کہا کہ بہاولپور میں اس وقت چند ہی فلور ملز ورکنگ پوزیشن میں ہیں جن کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گندم خریداری کا ریٹ 3500 روپے مقرر کیا ہے جبکہ فلور ملز کو پابند کیا جا رہا ہے کہ آٹا 3000 روپے من فروخت کیا جائے، جس سے فلور ملز چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔
چیمبر کے نائب صدر محمد اعظم قریشی نے کہا کہ فلور ملز کا ریکارڈ ایف بی آر کی جانب سے اٹھا لیا گیا ہے جس کے باعث کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وفد نے دیگر مسائل بھی چیف کمشنر کے سامنے رکھے۔
چیف کمشنر محمد ایاز نے وفد کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل سننے کے بعد کہا کہ ٹیکس کولیکشن ایف بی آر کی ذمہ داری ہے اور مقررہ ٹارگٹ مکمل کرنا بھی اسی کا حصہ ہے، تاہم چیمبر کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ٹیکس گزار کو سیکشن 138 اور 177 کے تحت نوٹس جاری ہوئے ہیں تو وہ 15 یوم کے اندر اندر کمپلائنس کرے، بصورت دیگر محکمہ سیکشن 175 کے تحت ریکارڈ اٹھانے کا مجاز ہے۔
چیف کمشنر محمد ایازنے مزید کہا کہ ادارہ اپنے ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اداروں کا وزٹ کرے گا تاہم وزٹ کے دوران کسی قسم کا خوف و ہراس پیدا نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر صدر چیمبر سید ظفر شریف نے تجویز دی کہ چیمبر اور ایف بی آر کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ٹیکس کولیکشن اور متعلقہ معاملات خوش اسلوبی سے طے پائیں اور بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔