لندن (22 جون 2026): رائل کالج آف فزیشنز (RCP) لندن نے، یو کے ڈیجیٹل ہیلتھ کولیبوریشن (UKDHC) اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن (PSIM) کے اشتراک سے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، ڈیجیٹل ہیلتھ اور انٹرنل میڈیسن کے مستقبل کے موضوع پر ایک تاریخی بین الاقوامی سائنسی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس کا مقصد طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید اختراعات کے انقلابی اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
اجلاس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر سہیل چغتائی نے کی، جبکہ ڈاکٹر سومیہ اقتدار نے شریک صدارت کے فرائض انجام دیے۔ رائل کالج آف فزیشنز لندن کی صدر، پروفیسر ڈاکٹر ممتاز پٹیل، تقریب کی مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر تھیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سہیل چغتائی کی مؤثر منصوبہ بندی اور بہترین انتظامات کے باعث منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں عالمی شہرت یافتہ معالجین، ماہرینِ تعلیم، ڈیجیٹل ہیلتھ کے ماہرین، ہیلتھ کیئر اسٹریٹجسٹ اور ٹیکنالوجی کے ممتاز رہنماؤں نے شرکت کی۔ دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام نے بین الضابطہ (Interdisciplinary) مکالمے کے لیے ایک مؤثر علمی پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں شرکاء نے تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کے منظرنامے میں موجود مواقع اور چیلنجز پر تفصیلی غور کیا۔
تمام سائنسی نشستوں کا مرکزی اور متفقہ پیغام یہ تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس طبی تعلیم، کلینیکل پریکٹس، تشخیص، ٹیلی میڈیسن، صحت کی خدمات کی فراہمی اور مریضوں کو بااختیار بنانے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ تاہم، مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ AI کا مقصد ڈاکٹروں کا متبادل بننا نہیں بلکہ اخلاقی، شفاف، ذمہ دارانہ اور شواہد پر مبنی انداز میں معالجین کی صلاحیتوں، فیصلہ سازی اور تشخیصی مہارت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
شرکاء کا اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ مستقبل کی طب کی قیادت وہ معالجین کریں گے جو جدید ٹیکنالوجی کو سائنسی مہارت، ہمدردانہ رویے، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور کلینیکل جوابدہی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر ممتاز پٹیل، پروفیسر ڈاکٹر سہیل چغتائی، پروفیسر اینگس والیس، ڈاکٹر سومیہ اقتدار، مسٹر ڈیوڈ رائٹ، پروفیسر ڈاکٹر منیر اظہر، ڈاکٹر آصف ہمایوں ملک، ڈاکٹر شین میک کیون، کیون کلینی، پروفیسر مارٹن کرلی، ڈاکٹر ہولگر کنز، پروفیسر بھیکھا رام دیوراجانی، سونیا کلنگٹن اور ڈاکٹر رابن کیرنی سمیت ممتاز مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے طبی تعلیم، ورچوئل ہسپتالوں، کلینیکل ڈیسیژن سپورٹ سسٹمز، تشخیصی عمل، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل جدت، گورننس، اخلاقیات، میڈیکو لیگل ذمہ داری، مریضوں کے تحفظ اور انٹرنل میڈیسن کے مستقبل سمیت متعدد اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر اس امر پر اتفاقِ رائے پایا گیا کہ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی اب مستقبل کا خواب نہیں بلکہ موجودہ دور کی ناگزیر حقیقت ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کی کامیابی کا انحصار ڈاکٹروں کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنے، مضبوط اخلاقی گورننس، سائنسی اصولوں کی پابندی اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (CPD) کے فروغ پر ہوگا۔
رائل کالج آف فزیشنز لندن، UKDHC اور PSIM کے درمیان یہ مشترکہ اقدام بین الاقوامی علمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے اور صحت کے شعبے میں ایک محفوظ، جدید، منصفانہ اور مریض دوست نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔
اس موقع پر این ایچ ایس (NHS) اصلاحات کے حوالے سے آئرلینڈ کے معروف ماہرِ اختراع پروفیسر مارٹن کرلی کی کتاب "Stay Left, Shift Left” کی باقاعدہ رونمائی بھی رائل کالج آف فزیشنز لندن کی صدر، پروفیسر ڈاکٹر ممتاز پٹیل نے کی۔